صحيح ابن خزيمه
— نفلی روزوں کے ابواب کا مجموعہ
باب: تا قیامت ہررمضان المبارک میں شب قدر کے موجود ہونے کا بیان - انبیائے اکرام کے سلسلے کے منقطع ہونے سے شب قدر کا آنا منقطع نہیں ہوتا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ مَرْثَدٍ ، أَوْ أَبُو مَرْثَدٍ ، شَكَّ أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَقِيَنَا أَبَا ذَرٍّ وَهُوَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ . فَقَالَ : مَا كَانَ أَحَدٌ بِأَسْأَلَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ مِنِّي . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ أُنْزِلَتْ عَلَى الأَنْبِيَاءِ بِوَحْيٍ إِلَيْهِمْ فِيهَا ، ثُمَّ تَرْجِعُ ؟ فَقَالَ : " بَلْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَّتُهُنَّ هِيَ ؟ قَالَ : " لَوْ أُذِنَ لِي لأَنْبَأْتُكُمْ . وَلَكِنِ الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعَيْنِ ، وَلا تَسْأَلْنِي بَعْدَهَا " . قَالَ : ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَيِّ السَّبْعَيْنِ هِيَ ؟ فَغَضِبَ عَلَيَّ غَضْبَةً لَمْ يَغْضَبْ عَلَيَّ قَبْلَهَا وَلا بَعْدَهَا مِثْلَهَا . ثُمَّ قَالَ : " أَلَمْ أَنْهَكَ أَنْ تَسْأَلَنِي عَنْهَا . لَوْ أُذِنَ لِي لأَنْبَأْتُكُمْ عَنْهَا ، لأَنْبَأْتُكُمْ بِهَا ، وَلَكِنْ لا آمَنُ أَنْ تَكُونَ فِي السَّبْعِ الآخِرِ " جناب مرثد یا ابومرثد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملے جبکہ وہ درمیانے جمرے کے پاس تھے ۔ تو میں نے اُن سے شب قدر کے بارے میں سوال کیا ۔ تو ُانہوں نے فرمایا کہ شب قدر کے بارے میں مجھ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ۔ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ، کیا شب قدر کے بارے میں انبیاء کرام پر وحی نازل ہوئی تھی پھر ( انبیاء کے جانے کے بعد شب قدر بھی ) واپس چلی گئی ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :“ بلکہ شب قدر قیامت تک موجود ہے ۔“ میں نے کہا کہ اے اﷲ کے رسول ، وہ کون سی رات ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر مجھے اجازت ہوتی تو میں تمہیں ضرور بتا دیتا ۔ لیکن تم اسے سات دنوں میں تلاش کرو اور آج کے بعد اس کے بارے میں سوال نہ کرنا ۔ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر اُنہیں بیان کرنے لگے تو میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ، وہ کون سے سات دنوں میں ہے ؟ تو آپ مجھ پر اس قدر ناراض ہوئے کہ ایسی شدید ناراضگی نہ اس سے پہلے کبھی ہوئی تھی اور نہ بعد میں کبھی ہوئی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا میں نے تمہیں اس کے بارے میں سوال کرنے سے منع نہیں کیا تھا ؟ اگر مجھے اجازت ہوتی تو میں تمہیں ضرور بتا دیتا ، میں تمہیں اس کے بارے میں ضرور اس کی خبر دے دیتا ۔ لیکن مجھے امید ہے کہ یہ آخری سات دنوں میں ہوگی ۔“