حدیث نمبر: 2137
وَأَمَّا خَبَرُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ ابْنِ مُعَانِقٍ ، أَوْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرْفَةً ، قَدْ يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا ، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا ، أَعَدَّهَا اللَّهُ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ ، وَأَلانَ الْكَلامَ ، وَتَابَعَ الصِّيَامَ ، وَصَلَّى بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلاشبہ جنّت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا بیرونی منظر اندر سے دیکھا جاسکتا ہے اور اندرونی نظارہ باہر سے دکھائی دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بالا خانے اس شخص کے لئے تیار کیے ہیں جو کھانا کھلاتا ہے ، نرم گفتگو کرتا ہے ، پے درپے روزے رکھتا ہے اور رات کو نفل نماز پڑھتا ہے جبکہ لوگ سوئے ہوتے ہیں ۔ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 2137
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن لغيره