صحيح ابن خزيمه
— نفلی روزوں کے ابواب کا مجموعہ
باب: پیر اور جمعرات کا روزہ رکھنا اس لئے بھی مستحب ہے کیونکہ ان دو دنوں میں اعمال اللہ تعالی کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں
حدیث نمبر: 2120
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ : يَوْمُ الاثْنَيْنِ ، وَيَوْمُ الْخَمِيسِ ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ مُؤْمِنٍ ، إِلا عَبْدٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ ، فَيَقُولُ : اتْرُكُوا ، أَوْ أَرْجِئُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : هَذَا الْخَبَرُ فِي مُوَطَّإِ مَالِكٍ مَوْقُوفٌ غَيْرُ مَرْفُوعٍ ، وَهُوَ فِي مُوَطَّإِ ابْنِ وَهْبٍ مَرْفُوعٌ صَحِيحٌمحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں کے اعمال ہر ہفتے میں دوبار پیش کیے جاتے ہیں ۔ پیر اور جمعرات کے دن ۔ لہٰذا ہر مومن کی بخشش ہو جاتی ہے ، سوائے اس بندے کے جس کی اپنے بھائی سے دشمنی یا جھگڑا ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” ان دو کو رہنے دو یا انہیں مہلت دو حتّیٰ کہ ( صلح کی طرف ) لوٹ آئیں ۔ “ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ روایت مؤطا امام مالک میں موقوف بیان ہوئی ہے جبکہ مؤطا ابن وہب میں مرفوع صحیح بیان ہوئی ہے ۔