صحيح ابن خزيمه
— نفلی روزوں کے ابواب کا مجموعہ
باب: پیر کا روزہ رکھنا مستحب ہے ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولادت باسعادت اس دن ہوئی ، اسی دن آپ کی طرف وحی بھیجی گئی اور اسی دن آپ کی وفات ہوئی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو مُوسَى ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ أَيْضًا ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ ، كُلُّهُمْ عَنْ غَيْلانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ يَعْنِي عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَقْبَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، صَوْمُ يَوْمِ الاثْنَيْنِ ؟ قَالَ : " يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ ، وَيَوْمٌ أَمُوتُ فِيهِ " . هَذَا حَدِيثُ قَتَادَةَ . وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يُذْكَرْ عُمَرَ . وَقَالَ : " فِيهِ وُلِدْتُ ، وَفِيهِ أُوحِيَ إِلَيَّ "سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کی طرف متوجہ ہوئے تو پوچھا کہ اے اللہ کے نبی ، پیر کے دن کا روزہ رکھنا کیسا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن میری وفات ہوگی ۔ “ یہ حدیث قتادہ کی ہے ۔ جناب وکیع کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے ۔ اور اس میں ہے کہ ” اس دن میں پیدا ہوا ، اور اس دن میری طرف وحی گئی ۔ “