صحيح ابن خزيمه
— نفلی روزوں کے ابواب کا مجموعہ
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دن روزہ رکھنے اور دو دن ناغہ کرنے کی استطاعت ملنے کی تمنّا کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلانُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ ، وَيُفْطِرُ يَوْمًا ؟ قَالَ : " وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ ؟ " قَالَ : فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا ، وَيُفْطِرُ يَوْمًا ؟ قَالَ : " ذَاكَ صَوْمُ دَاوُدَ " . قَالَ : فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا ، وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ ؟ قَالَ : " وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ " سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ، جو شخص دو دن روزہ رکھے اور ایک دن ناغہ کرے اس کا کیا حال ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا کوئی شخص اس کی طاقت رکھتا ہے ؟ تو انہوں نے عرض کی کہ اس شخص کا کیا حال ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن روزہ چھوڑتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ طریقہ حضرت داؤد عليه السلام کے روزوں کا ہے ۔ “ انہوں نے پوچھا تو وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن نہ رکھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری خواہش اور چاہت ہے کہ مجھے بھی اس کی طاقت نصیب ہو ۔ “