صحيح ابن خزيمه
— نفلی روزوں کے ابواب کا مجموعہ
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ داوَد عليه السلام سب لوگوں سے بڑھ کر عبادت گزار تھے ۔ جبکہ ان کے روزوں کا معمول اس طرح تھا جیسا ہم نے بیان کیا ہے
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ ، وَتَصُومُ النَّهَارَ ؟ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، وَقَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ ؛ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْبَدَ النَّاسِ ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا ، وَيُفْطِرُ يَوْمًا " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّكَ لا تَدْرِي ، لَعَلَّهُ أَنْ يَطُولَ بِكَ الْعُمُرُ " . فَلَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ قَبِلْتُ الرُّخْصَةَ الَّتِي أَمَرَنِي بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجھے بلانے کے لئے ) پیغام بھیجا ۔ ( میں حاضر ہوا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تم ساری رات نفل پڑھتے ہو اور دن کو روزہ رکھتے ہو ۔ “ پھر مکمّل حدیث بیان کی ۔ وہ کہتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حضرت داؤد عليه السلام کے روزے رکھا کرو کیونکہ وہ سب لوگوں سے بڑھ کر عبارت گزار بندے تھے ۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن روزہ چھوڑ دیتے تھے ۔ “ پھر فرمایا : ” بیشک تمہیں معلوم نہیں ہے شاید کہ تمہیں طویل عمر نصیب ہو ۔ “ وہ کہتے ہیں کہ اب میں خواہش کرتا ہوں کہ کاش میں نے وہ رخصت قبول کی ہوتی جس کا حُکم مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا ۔