صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب فضول التطهير والاستحباب من غير إيجاب— غیر واجب ، اضافی طہارت اور مستحب وضو کے متعلق ابواب کا مجموعہ
(163) بَابُ اسْتِحْبَابِ الْوُضُوءِ لِلدُّعَاءِ، وَمَسْأَلَةِ اللَّهِ لِيَكُونَ الْمَرْءُ طَاهِرًا عِنْدَ الدُّعَاءِ وَالْمَسْأَلَةِ. باب: دعا اور اللہ تعالیٰ سے مانگنے کے لیے وضو کرنا مستحب ہے ۔ تاکہ آدمی دعا اور اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے وقت پاک ( باوضو ) ہو
حدیث نمبر: 210
وَقَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ : عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ، ثُمَّ صَلَّى بِأَرْضِ سَعْدٍ ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ . نا بُنْدَارٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالا : نا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ . وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍمحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی زمین میں نماز ادا کی۔ پھر باقی قصّہ بیان کیا۔