صحيح ابن خزيمه
— نفلی روزوں کے ابواب کا مجموعہ
باب: عاشورا کے دن کی عظمت کی لئے ماؤں کا اپنے بچّوں کا عاشورا کے دن دودھ نہ پلانا مستحب ہے ۔ بشرطیکہ روایت صحیح ہو ، کیونکہ میرا دل خالد بن ذکوان کے بارے میں مطمئن نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 2090
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو الْمُطَرِّفِ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ , وَهَذَا مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ الْحَدِيثِ , وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَتْنَا عَلِيلَةُ بِنْتُ الْكُمَيْتِ الْعَتَكِيَّةُ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ أُمِّي أُمَيْنَةَ . بِمِثْلِهِ . وَزَادَ : فَكَانَ اللَّهُ يَكْفِيهِمْ . وَقَالَ : وَكَانَتْ أُمُّهَا خَادِمَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يُقَالُ لَهَا : رُزَيْنَةُمحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
حضرت عُلیلہ بنت کمیت عتکیہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنی والدہ امینہ کو سنا ، اوپر والی حدیث کی مثل روایت بیان کی اور اُس میں یہ اضافہ ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ ان شیر خوار بچّوں کو کافی ہو جاتا تھا ۔ جناب مسلمہ بیان کرتے ہیں کہ اُن کی والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں جنہیں رزینہ کہا جاتا تھا ۔