صحيح ابن خزيمه
— نفلی روزوں کے ابواب کا مجموعہ
باب: ماہ شعبان کے روزے رمضان المبارک کے روزوں کے ساتھ ملانا جائز ہے
حدیث نمبر: 2079
حَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى , حَدَّثَنَا خَالِدٌ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , وَذَكَرَ أَبَا سَلَمَةَ , أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ , وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَنْبَرٍ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ . وَزَادَ قَالَ : وَكَانَ يَقُولُ : " خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ , فَإِنَّ اللَّهَ لا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " , وَكَانَ أَحَبَّ الصَّلاةِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهَا مِنْهَا وَإِنْ قَلَّتْ ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلاةً أَثْبَتَهَامحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مذکورہ بالا کی مثل مروی ہے ۔ اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اتنا عمل کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ( اجر و ثواب دیتے ہوئے ) نہیں تھکتا حتّیٰ کہ تم ہی ( عمل کرکے ) تھک جاتے ہو “ اور آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ( نفلی ) نماز وہ تھی جس پر ہمیشگی کی جاتی ، اگرچہ وہ تھوڑی سی ہو اور آپ کا عمل مبارک یہ تھا کہ آپ جب کوئی نماز پڑھتے تو اُسے ہمیشہ ادا کرتے ۔