صحيح ابن خزيمه
— افطاری کے وقت اور جن چیزوں سے افطاری کرنا مستحب ہے اُن کے ابواب کا مجموعہ
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ کھجور کی موجودگی میں کھجور کی برکت کے حصول کے لئے اس سے روزہ افطار کرنے کا حُکم استحبابی اور اختیاری ہے ، کیونکہ کھجور باعث برکت ہے اور کھجور کی عدم موجودگی میں پانی سے روزہ کھولنے کا حُکم بھی اختیاری اور مستحب ہے کیونکہ پانی پاکیزہ ہے ۔ یہ حکم واجب اور فرض نہیں ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ كِلاهُمَا , عَنْ عَاصِمٍ , وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ , حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ , عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ , عَنِ الرَّبَابِ , عَنْ عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ , وَهِيَ عَلَى الْقَرِيبِ صَدَقَتَانِ : صَدَقَةٌ , وَصِلَةٌ " وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ , فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ , فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَمَاءٌ , فَإِنَّهُ طُهُورٌ " وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْبَحُوا عَنِ الْغُلامِ عَقِيقَتَهُ , وَأَمِيطُوا عَنْهُ الأَذَى , وَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا " . هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَقَالَ الآخَرَانِ : وَقَالَ الآخَرَانِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ , فَإِنْ لَمْ يَجِدْ ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ , فَإِنَّهُ طُهُورٌ " . وَلَمْ يَذْكُرَا قِصَّةَ الصَّدَقَةِ وَلا الْعَقِيقَةِسیدنا سلیمان بن عامر الضبیی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ، آپ فرما رہے تھے ۔ ” مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے جبکہ قریبی رشتہ دار پر صدقہ کرنا دو صدقے ہیں ، ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی ۔ “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص روزہ کھولے تو اُسے کھجور سے روزہ کھولنا چاہیے کیونکہ وہ باعث برکت ہے ، اور اگر جسے کھجور نہ ملے تو پانی سے افطاری کرے کیونکہ وہ بہت پاکیزہ ہے ۔ ” اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بچّے کی طرف سے ایک بکرے کو عقیقے میں ذبح کرو ۔ اور اس سے گندگی صاف کرو اور اُس کی طرف سے ( بکرے کا ) خون بہاؤ ۔ ( اسے ذبح کرو ) ۔ “ یہ حدیث جناب عبدالجبار کی ہے ۔ جبکہ دیگر دو اساتذہ کی روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے کھجور کے ساتھ روزہ افطار کرنا چاہیے ۔ اگر اُسے کھجور نہ ملے تو پانی کے ساتھ افطار کرلے کیونکہ وہ پاکیزہ ہے ۔ “ دونوں اساتذہ کرام نے صدقہ کرنے اور عقیقہ کرنے کا قصّہ ذکر نہیں کیا ۔ “