صحيح ابن خزيمه
— رمضان المبارک میں سفر کے دوران جن لوگوں کے لئے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے ان کے ابواب کا مجموعہ
باب: طاقت و قوت رکھنے والے شخص کے لئے سفر میں روزہ رکھنا مستحب ہے اور جو کمزور اور ضعیف ہو اُس کے لئے روزہ چھوڑنا مستحب ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ أَيْضًا , حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ نُوحٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ الْجُرَيْرِيُّ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ , فَمِنَّا الصَّائِمُ ، وَمِنَّا الْمُفْطِرُ , فَلَمْ يَعِبِ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ , وَلا الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ " . وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ أَنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ جَمِيلٌ , وَمَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأَفْطَرَ فَذَلِكَ حَسَنٌ جَمِيلٌ . هَذَا حَدِيثُ الثَّقَفِيِّ ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ : فِي رَمَضَانَ . وَلَمْ يَقُلْ سَالِمُ بْنُ نُوحٍ : جَمِيلٌ ، وَقَالَ : يَرَوْنَ . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ : كُنَّا نَغْدُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَمْ يَقُلْ : فِي رَمَضَانَسیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رمضان المبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا ، تو ہم سے کچھ روزے دار تھے اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا تھا ۔ تو نہ روزہ چھوڑنے والے نے روزے دار پر اعتراض کیا اور نہ روزے دار نے بے روزہ پر عیب لگایا ۔ اور صحابہ کرام کا موقف یہ تھا کہ جو شخص قوت وطاقت رکھتا ہو وہ روزہ رکھ لے تو یہ بہت ہی اچھا ہے ۔ اور جو شخص کمزوری محسوس کرے تو وہ روزہ نہ رکھے تو یہ ( اس کے حق میں ) بہت اچھا ہے ۔ یہ جناب ثقفی کی روایت ہے ، لیکن انہوں نے ” فی رمضان “ ( رمضان میں ) کے الفاظ بیان نہیں کیے اور جناب سالم بن نوح کی روایت میں” جميل “ کا لفظ نہیں ہے اور” يرون “ کا لفظ روایت کیا ہے ۔ اور جناب ابن علیہ کی روایت میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے ۔ ” فی رمضان “ ( رمضان میں ) کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔