صحيح ابن خزيمه
— روزے کی حالت میں ایسے مباح اور جائز اعمال کے ابواب کا مجموعہ جن کے بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے
باب: جنبی شخص روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ غسل جنابت کو طلوع فجر تک مؤخر کرسکتا ہے
حدیث نمبر: 2009
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي سُمَيٌّ ، وَسَمِعْتُهُ مِنْ سُمَيٍّ , سَمِعَهُ مِنْ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فَذَهَبْتُ مَعَ أَبِي , فَسَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُدْرِكُهُ الصُّبْحُ وَهُوَ جُنُبٌ فَيَصُومُ " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب ابوبکر سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمان بن حارث کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا ۔ جناب ابوبکر کہتے ہیں کہ میں بھی اپنے والد کے ساتھ گیا ۔ تو میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں صبح کر لیتے تھے پھر ( اسی حالت میں ) روزہ رکھ لیتے تھے ۔