حدیث نمبر: 1946
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ , أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ : أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , احْتَرَقْتُ , فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُهُ . فَقَالَ : أَصَبْتُ أَهْلِيَ . قَالَ : " تَصَدَّقْ " . قَالَ : وَاللَّهِ مَا لِي شَيْءٌ وَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ . قَالَ : " اجْلِسْ " . فَجَلَسَ , فَبَيْنَمَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ ، أَقْبَلَ رَجُلٌ يَسُوقُ حِمَارًا عَلَيْهِ طَعَامٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ ؟ " , فَقَامَ الرَّجُلُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَصَدَّقْ بِهَذَا " . فَقَالَ : عَلَى غَيْرِنَا . فَوَاللَّهِ إِنَّا لَجِيَاعٌ , وَمَا لَنَا شَيْءٌ . قَالَ : " فَكُلُوهُ " . وَقَالَ ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ : قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَغَيْرَنَا فَوَاللَّهِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدہ عائشہ رضی ﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص رمضان المبارک میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسجد میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے ﷲ کے رسول ، میں برباد ہوگیا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس پوچھا : ” اسے کیا ہوا ہے ؟ “ تو اُس نے بتایا کہ میں نے اپنی بیوی سے ہمبستری کرلی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صدقہ کرو ۔ “ اُس نے کہا کہ اللہ کی قسم ، میرے پاس کچھ نہیں اور نہ میں صدقہ کرنے کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیٹھ جاؤ “ تو وہ بیٹھ گیا ۔ اسی اثنا میں کہ وہ بیٹھا ہوا تھا ، ایک شخص گدھا ہانکتا ہوا آگیا ، جس پر کھانا لدا ہوا تھا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ برباد ہونے والا شخص کہاں ہے ؟ “ تو وہ شخص کھڑا ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ غلہ صدقہ کردو ۔ تو اُس نے عر ض کی کہ کیا اپنے علاوہ کسی اور پر صدقہ کروں ؟ اللہ کی قسم ، ہم خود بھوکے ہیں اور ہمارے پاس کچھ نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو تم ہی اسے کھالو ۔ “ جناب عبدالحکم کی روایت میں ہے کہ اُس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ، کیا اپنے علاوہ کسی اور شخص پر صدقہ کروں اللہ کی قسم ( ہم توخود بھوکے اور محتاج ہیں ) ـ

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 1946
تخریج حدیث صحيح بخاري