صحيح ابن خزيمه
— روزہ دار کا روزہ توڑنے والے افعال کے ابواب کا مجموعہ
باب: رمضان المبارک میں بیوی سے ہمبستری کرکے روزہ توڑنے والے شخص پر کفّارہ واجب ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَفِظْتُهُ مِنْ فِي الزُّهْرِيِّ , سَمِعَ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُخْبِرُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَلَكْتُ . فَقَالَ : " وَمَا أَهْلَكَكَ ؟ " قَالَ : وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي شَهْرِ رَمَضَانَ . فَقَالَ : " هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُعْتِقَ رَقَبَةً ؟ " قَالَ : لا . قَالَ : " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ " قَالَ : لا . قَالَ : " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ " قَالَ : لا . قَالَ : " اجْلِسْ " , فَجَلَسَ , فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ , قَالَ : وَالْعَرَقُ هُوَ الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ , قَالَ : " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَعَلَى أَهْلِ بَيْتٍ أَفْقَرَ مِنَّا ؟ فَمَا بَيْنَ لابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرَ مِنَّا . فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ , وَقَالَ : " اذْهَبْ فَأَطْعِمْ أَهْلَكَ " سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے عر ض کی کہ میں ہلاک ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تجھے کس چیز نے ہلاک کیا ہے ؟ “ اُس نے جواب دیا کہ میں نے ماہ رمضان میں ( دن کے وقت روزے کی حالت میں ) اپنی بیوی سے ہم بستری کرلی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم ایک گردن آزاد کرنے کی استطاعت رکھتے ہو ؟ “ اُس نے کہا کہ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تو کیا تم دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ سکتے ہو ؟ “ اُس نے عرض کی کہ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ’’ تو کیا تم ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا سکتے ہو ؟ “ اُس نے جواب دیا کہ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیٹھ جاؤ ۔ “ تو وہ شخص بیٹھ گیا ۔ پھر اس اثنا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا ۔ عرق بڑے ٹوکرے کو کہتے ہیں ـ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ٹوکرا لے لو اور یہ کھجوریں صدقہ کر دو ـ “ تو اُس نے عرض کی اے اللہ کے رسول ، کیا میں اپنے سے زیادہ غریب لوگوں پر صدقہ کروں ؟ تو مدینہ منوّرہ کے دونوں پتھریلے اطراف کے درمیان ہم سے زیادہ غریب گھرانہ کوئی نہیں ہے ـ اس بات پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوب ہنسے حتّیٰ کہ آپ کے کچلی والے دانت مبارک ظاہر ہوگئے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ اپنے گھر والوں کو کھلا دو ۔ “