صحيح ابن خزيمه
— چاند اور ماہِ رمضان کے روزوں کی ابتداء کے وقت پر مشتمل ابواب کا مجموعہ
باب: سحری کھانے میں تاخیر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1941
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، نا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، نا هِشَامٌ صَاحِبُ الدَّسْتُوَائِيِّ , نا قَتَادَةُ . ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ , عَنْ قَتَادَةَ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , نا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، نا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : " تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلاةِ " , قُلْتُ : كَمْ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ : " قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً " . مَعَانِي أَحَادِيثِهِمْ سَوَاءٌ , وَهَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍمحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کی ، پھر ہم نماز کے لئے اُٹھ گئے ۔ میں نے پوچھا تو سحری کرنے اور نماز کے درمیان کتنا وقعہ تھا ؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ پچاس آیات کی قراءت کرنے کی مقدار کے برابر وقفہ تھا ۔