صحيح ابن خزيمه
— چاند اور ماہِ رمضان کے روزوں کی ابتداء کے وقت پر مشتمل ابواب کا مجموعہ
باب: جب رمضان کا چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کیئے بغیر رمضان کا روزہ رکھنا منع ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ الْبَزَّارُ ، نا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عِكْرِمَةَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ ، وَهُوَ يَأْكُلُ ، فَقَالَ : ادْنُ فَكُلْ . فَقُلْتُ : إِنِّي صَائِمٌ ، قَالَ : وَاللَّهِ لَتَدْنُوَنَّ . قُلْتُ : فَحَدِّثْنِي . قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالا ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرَةٌ ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاثِينَ " جناب سماک بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عکرمہ کے پاس اُس دن آیا جس دن رمضان کے شروع ہو جانے کے بارے میں شک کیا جا رہا ہے ، جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے ۔ تو اُنہوں نے کہا کہ قریب ہو جاؤ اور کھانا کھاؤ ۔ تو میں نے عرض کی کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے ۔ اُنہوں نے فرمایا کہ اللہ کی قسم ، تم ضرور قریب ہوگے ( اور کھاؤ گے ) میں نے کہا کہ تو مجھے ( اس بارے میں ) بیان فرمائیں ۔ اُنہوں نے فرمایا کہ ہمیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ( روزہ رکھ کر ) رمضان کا استقبال مت کرو ۔ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو ـ پھر ایک چاند دیکھنے اور تمہارے درمیان بادل یا دھند و غبار حائل ہو جائے تو ( شعبان کی ) گنتی تیس دن پوری کرلو ـ “