صحيح ابن خزيمه
— چاند اور ماہِ رمضان کے روزوں کی ابتداء کے وقت پر مشتمل ابواب کا مجموعہ
باب: جب لوگوں پر بادل چھا جائیں تو مہینے کا اندازہ اور گنتی کرنے کے حُکم کا بیان
حدیث نمبر: 1907
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً ، فلا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، وَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، إِلا أَنْ يُغَمَّ عَلَيْكُمْ ، فَإِنْ غُمِّيَ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ مِنْ حُفَّاظِ الدُّنْيَا فِي زَمَانِهِمحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مہینہ اُنتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے ۔ لہٰذا تم چاند کو دیکھے بغیر روزہ نہ رکھو اور نہ چاند دیکھے بغیر افطار کرو ، سوائے اس کے کہ تم پر بادل چھا جائیں پھر اگر بادل چھائے ہوں تو مہینے کا اندازہ اور گنتی کرلو ۔ “ امام ابوبکر رحمه الله کہتے ہیں کہ جناب اسماعیل بن جعفر اپنے زمانے کے دنیا کے عظیم حافظ حدیث تھے ۔