حدیث نمبر: 1902
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ، وَغَيْرُهُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلصَّائِمِينَ بَابٌ فِي الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ ، لا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ ، فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ أُغْلِقَ ، مَنْ دَخَلَ شَرِبَ ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا " . أَبُو حَازِمٍ سَلَمَةُ بْنُ دِينَارٍ ثِقَةٌ ، لَمْ يَكُنْ فِي زَمَانِهِ مِثْلُهُ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنّت میں روزہ داروں کے لئے ایک خاص دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے ۔ اس میں سے روزہ داروں کے سوا کوئی شخص داخل نہیں ہوگا ۔ پھر جب آخری روزے دار داخل ہو جائے گا تو وہ دروازہ بند کر دیا جائے گا ۔ جو شخص جنّت میں داخل ہو گیا وہ جنّتی مشروب پیئے گا اور جس نے جتنی مشروب پی لیا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا ۔ “ جناب ابوحازم سلمہ بن دینار ثقہ راوی ہیں ان کے زمانے میں ان جیسا کوئی عالم نہ تھا ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 1902
تخریج حدیث صحيح بخاري