صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب المسح على الخفين— موزوں پر مسح کرنے کے ابواب کا مجموعہ
(146) بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُفَسِّرِ لِلْأَلْفَاظِ الْمُجْمَلَةِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا، باب: (مسح کے متعلق) گذشتہ مجمل الفاظ کی تفسیر کرنے والی حدیث کا بیان
حدیث نمبر: 190
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الرُّخْصَةَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلَابِسِهَا عَلَى طَهَارَةٍ، دُونَ لَابِسِهَا مُحْدِثًا غَيْرَ مُتَطَهِّرٍ.محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ موزوں پرمسح کرنے کی رُخصت اُس شخص کے لئے ہے جس نے انہیں وضو کر کے پہنا ہوں جس نے بغیر طہارت کے بلا وضو پہنے ہوں اس کے لیے نہیں۔
نا أَبُو الأَزْهَرِ حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اے اللّٰہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے موزوں پر مسح کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ، کیونکہ میں نے انہیں دونوں پاؤں کی طہارت کی حالت میں پہنا ہے۔ “