صحيح ابن خزيمه
— جمعہ سے پہلے نفل نماز کے ابواب ( کا مجموعہ )
باب: امام کا مؤذن کو « حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ » کو حذف کرکے اس کی جگہ پر ” نماز اپنے گھروں میں ادا کرلو“ کے الفاظ کہنے کا حُکم دینا
نا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ : " إِذَا قُلْتَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَلا تَقُلْ : حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ، قُلْ : صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ " . فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا ذَلِكَ . فَقَالَ : " أَتَعْجَبُونَ مِنْ ذَا ، فَقَدْ فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي . إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُخْرِجَكُمْ فَتَمْشُوا فِي الطِّينِ وَالدَّحَضِ " جناب عبداللہ بن حارث سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک بارش والے دن اپنے مؤذن سے کہا کہ جب تم « وَأَشْهَدُ أَنْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ ٱللَّٰه » کہہ لو تو « حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ » نہ کہنا بلکہ « صَلُّوْ فِيْ بُيُوْتِكُمْ » ” نماز اپنے گھروں میں پڑھ لو “ کے الفاظ کہنا ـ تو گویا لوگوں نے اس بات کو ناپسند کیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر تعجب کرتے ہو ، حالانکہ یہ کام اس ہستی نے بھی کیا ہے جو مجھ سے اعلیٰ اور افضل ہیں ـ بیشک جمعہ فرض ہے اور بلاشبہ میں نے یہ بات ناپسند کی کہ تمہیں ( تمہارے گھروں سے ) نکالوں اور تم مٹی اور کیچڑ میں چل کر ( مسجد میں آؤ ) ۔