صحيح ابن خزيمه
— جمعہ سے پہلے نفل نماز کے ابواب ( کا مجموعہ )
باب: نماز جمعہ سے پہلے طویل نفل نماز پڑھنا مستحب ہے
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ جمعہ سے پہلے وہ جتنی نماز پڑھے گا وہ نفل ہوگی ، اس میں سے فرض کوئی نہیں ہوگی ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوسعید اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی روایات میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ ” اُس نے جتنی اُس کے مقدر میں لکھی تھی نماز پڑھی ۔ “ اور سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ” جو اس کے مقدر میں تھی ( اُس نے پڑھی ) “ اور سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ’’ تو اُس نے نماز پڑھی اگر اُس نے چاہا ۔ “
نا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ زِيَادٌ : أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ . وَقَالَ الآخَرَانِ : عَنْ أَيُّوبَ , قَالَ : قُلْتُ لِنَافِعٍ : أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي قَبْلَ الْجُمُعَةِ ؟ فَقَالَ : " قَدْ كَانَ يُطِيلُ الصَّلاةَ قَبْلَهَا , وَيُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ , وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ " جناب ایوب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع سے پوچھا ، کیا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ سے پہلے نماز پڑھتے تھے ؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ وہ جمعہ سے پہلے بڑی طویل نماز پڑھتے تھے اور جمعہ کے بعد اپنے گھر میں دو رکعات ادا کرتے تھے ۔ اور بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح عمل کرتے تھے ۔