حدیث نمبر: 1836
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ جمعہ سے پہلے وہ جتنی نماز پڑھے گا وہ نفل ہوگی ، اس میں سے فرض کوئی نہیں ہوگی ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوسعید اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی روایات میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ ” اُس نے جتنی اُس کے مقدر میں لکھی تھی نماز پڑھی ۔ “ اور سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ” جو اس کے مقدر میں تھی ( اُس نے پڑھی ) “ اور سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ’’ تو اُس نے نماز پڑھی اگر اُس نے چاہا ۔ “

نا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ زِيَادٌ : أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ . وَقَالَ الآخَرَانِ : عَنْ أَيُّوبَ , قَالَ : قُلْتُ لِنَافِعٍ : أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي قَبْلَ الْجُمُعَةِ ؟ فَقَالَ : " قَدْ كَانَ يُطِيلُ الصَّلاةَ قَبْلَهَا , وَيُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ , وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

جناب ایوب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع سے پوچھا ، کیا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ سے پہلے نماز پڑھتے تھے ؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ وہ جمعہ سے پہلے بڑی طویل نماز پڑھتے تھے اور جمعہ کے بعد اپنے گھر میں دو رکعات ادا کرتے تھے ۔ اور بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح عمل کرتے تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / حدیث: 1836
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده صحيح