صحيح ابن خزيمه
— جمعہ سے پہلے نفل نماز کے ابواب ( کا مجموعہ )
باب: امام کا خطبے کے دوران مسجد میں داخل ہونے والے سے پوچھنا کہ کیا اس نے دو رکعات ادا کرلی ہیں یا نہیں ؟ اور امام کا اسے دو رکعات پڑھنے کا حُکم دینا اگر اُس نے امام کے سوال کرنے سے پہلے یہ دو رکعات نہ پڑھی ہوں ۔ اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ خطبہ نماز نہیں ہے
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ , قَالَ بِشْرٌ : قَالَ : ثنا عَمْرٌو ، وَقَالَ الآخَرَانِ : عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، كُلُّهُمْ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَخَلَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ , فَقَالَ : " أَصَلَّيْتَ ؟ " قَالَ : لا , قَالَ : " فَقُمْ فَارْكَعْ " . وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ : " أَصَلَّيْتَ يَا فُلانُ ؟ " . وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَاصِمٍ : فَقَالَ : " أَرَكَعْتَ ؟ " قَالَ : لا . قَالَ : " فَارْكَعْهُمَا "سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے پوچھا : ’’ کیا تم نے نماز پڑھی ہے ؟ “ اُس نے جواب دیا کہ نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھڑے ہو جاؤاور نماز پڑھو ۔ “ اور جناب احمد بن عبدہ اور احمد بن مقدام کی روایت میں ہے کہ ” اے فلاں تم نے نماز پڑھی ہے “ اور جناب اَبی عاصم کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم نے نماز ادا کرلی ہے ؟ “ اُس نے کہا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ” دو رکعات ادا کر لو ـ “