صحيح ابن خزيمه
— جمعہ سے پہلے نفل نماز کے ابواب ( کا مجموعہ )
باب: امام کا خطبے کے دوران مسجد میں داخل ہونے والے سے پوچھنا کہ کیا اس نے دو رکعات ادا کرلی ہیں یا نہیں ؟ اور امام کا اسے دو رکعات پڑھنے کا حُکم دینا اگر اُس نے امام کے سوال کرنے سے پہلے یہ دو رکعات نہ پڑھی ہوں ۔ اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ خطبہ نماز نہیں ہے
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ عَمْرٌو : دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ , وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : دَخَلَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ , فَقَالَ لَهُ : " صَلَّيْتَ ؟ " قَالَ : لا , قَالَ : " فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " . نا بِهِمَا الْمَخْزُومِيُّ مُنْفَرِدَيْنِ , وَقَالَ : " فَقُمْ , فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " . وَقَالَ مَرَّةً فِي عَقِبِ خَبَرِ أَبِي الزُّبَيْرِ : وَاسْمُ الرَّجُلِ سُلَيْكُ بْنُ عَمْرٍو الْغَطَفَانِيُّجناب عمرو اور ابوالزبیر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، جناب عمرو کہتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا ـ اور جناب ابوالزبیر کی روایت کے الفاظ یوں ہیں ـ سلیک غطفانی جمعہ والے دن مسجد میں داخل ہوا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرماہے تھے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے پوچھا : ” نماز نفل پڑھی ہے ؟ “ اُس نے جواب دیا کہ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو دو رکعات پڑھ لو ۔ “ جنا ب مخزوی نے ہمیں یہ دونوں روایتیں الگ الگ بیان کی ہیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” توکھڑے ہو جاؤ اور دو رکعات ادا کرو ۔ “ اور ایک مرتبہ جناب ابوالزبیر کی روایت کے بعد کہا ، اور اس آدمی کا نام سلیک بن عمرو غطفانی ہے ـ