صحيح ابن خزيمه
— اذان ، خطبہ جمعہ ، اور اس دوران مقتدیوں کا بغور خطبہ سُننا اور خاموش رہنا اور ان افعال کے ابواب کا مجموعہ جو اُن کے لئے جائز ہیں اور جو منع ہیں
باب: جمعہ میں لوگوں کے درمیان جدائی ڈالنے کی ممانعت اور اس سے اجتناب کرنے کی فضیلت کا بیان
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَحْسَنَ الْغُسْلَ أَوْ تَطَهَّرَ فَأَحْسَنَ الطُّهُورَ ، فَلَبِسَ مِنْ خَيْرِ ثِيَابِهِ , وَمَسَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ طِيبًا , أَوْ دُهْنِ أَهْلِهِ , وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ ، إِلا غُفِرَ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ الأُخْرَى " . قَالَ بُنْدَارٌ : أَحْفَظُهُ مِنْ فِيهِ , عَنْ أَبِيهِ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : لا أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ بُنْدَارًا فِي هَذَا , وَالْجَوَادُ قَدْ يَفْتُرُ فِي بَعْضِ الأَوْقَاتِسیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا تو بہترین غسل کیا ۔ یا اُس نے وضو کیا تو اچھا وضوکیا ، پھر اپنا عمدہ لباس پہنا اور اللہ کی عطا کی ہوئی خوشبو لگائی یا اپنے گھر والوں کا ( تیار کردہ ) تیل لگایا اور اُس نے دو ( بیٹھنے والوں ) کے درمیان جدائی نہ ڈالی تو اُس کے اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیانی گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔ “ جناب بندار کہتے ہیں کہ میں نے یہ روایت استاد محترم کے مُنہ سے اُن کے باپ کے واسطے سے سُنی ہے ۔ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ کسی راوی نے جناب بندار کی اس روایت میں متابعت کی ہو ۔ اور ماہر شاہسوار بھی کبھی کو تاہی کر جاتا ہے ۔