صحيح ابن خزيمه
— اذان ، خطبہ جمعہ ، اور اس دوران مقتدیوں کا بغور خطبہ سُننا اور خاموش رہنا اور ان افعال کے ابواب کا مجموعہ جو اُن کے لئے جائز ہیں اور جو منع ہیں
باب: میں نے جو مجمل روایت بیان کی ہے اس کی مفسر روایت کا بیان
نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ مَسَّ مِنْ طِيبِ امْرَأَتِهِ إِنْ كَانَ لَهَا , وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ , ثُمَّ لَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ ، وَلَمْ يَلْغُ عِنْدَ الْمَوْعِظَةِ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهُمَا , وَمَنْ لَغَا أَوْ تَخَطَّى كَانَتْ لَهُ ظُهْرًا " سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا پھر اُس نے اپنی بیوی کی خوشبو میں سے خوشبو لگائی اگر اُس کے پاس خوشبو موجود ہو ، اور اپنا بہترین لباس پہنا پھر ( مسجد میں آیا تو ) لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگیں اور دوران خطبہ اُس نے کوئی لغو کام نہ کیا تو اس کے یہ اعمال دو جمعوں کے درمیانی گناہوں کا کفارہ بن جائیں گے ـ اور جس شخص نے لغو کام کیا یا اُس نے گردنیں پھلانگیں تو اُسے ظہر کی نماز کا اجر ملے گا ـ “