صحيح ابن خزيمه
— اذان ، خطبہ جمعہ ، اور اس دوران مقتدیوں کا بغور خطبہ سُننا اور خاموش رہنا اور ان افعال کے ابواب کا مجموعہ جو اُن کے لئے جائز ہیں اور جو منع ہیں
باب: سوال کرنے والے کو تعلیم دینے کے لئے امام کو خطبہ منقطع کرنے کی رخصت ہے
نا أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ أَبِي رِفَاعَةَ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ : " انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ , لا يَدْرِي مَا دِينُهُ ؟ فَأَقْبَلَ إِلَيَّ وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ , فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ خَلَتْ قَوَائِمُهُ حَدِيدًا , قَالَ حُمَيْدٌ : أُرَاهُ رَأَى خَشَبًا أَسْوَدَ حَسِبَهُ حَدِيدًا , فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ , ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ وَأَتَمَّ آخِرَهَا " سیدنا ابورفاعہ عدوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ تو میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ، ایک اجنبی شخص اپنے دین کے بارے میں سوال کرنے آیا ہے ، اسے معلوم نہیں کہ اس کا دین کیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے اپنا خطبہ چھوڑ دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کرسی لائی گئی ، میرا خیال ہے کہ اس کے پائے لوہے کے تھے ـ جناب حمید کہتے ہیں کہ میرے خیال میں انہوں نے سیاہ رنگ کی ٹکڑی کے پائے دیکھے تو انہوں نے اسے لوہا سمجھ لیا ـ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اللہ تعالیٰ کا سکھایا ہوا علم سکھانے لگے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دوبارہ شروع کیا اور اس کا باقی حصّہ مکمّل کیا ۔