صحيح ابن خزيمه
— اذان ، خطبہ جمعہ ، اور اس دوران مقتدیوں کا بغور خطبہ سُننا اور خاموش رہنا اور ان افعال کے ابواب کا مجموعہ جو اُن کے لئے جائز ہیں اور جو منع ہیں
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر بنانے سے پہلے خطبہ کے لئے کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان
نا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنِ الْمُبَارَكِ وَهُوَ ابْنُ فَضَالَةَ , عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ خَشَبٍ أَوْ جِذْعٍ أَوْ نَخْلَةٍ ، شَكَّ الْمُبَارَكُ ، فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ قَالَ : " ابْنُوا لِي مِنْبَرًا " . فَبَنَوْا لَهُ الْمِنْبَرَ . فَتَحَوَّلَ إِلَيْهِ , حَنَّتِ الْخَشَبَةُ حَنِينَ الْوَالِهِ , فَمَا زَالَتْ حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمِنْبَرِ , فَأَتَاهَا , فَاحْتَضَنَهَا , فَسَكَنَتْ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : الْوَالِهُ : يُرِيدُ بِهَا الْمَرْأَةَ إِذَا مَاتَ لَهَا وَلَدٌسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن لکڑی کے ایک ستون ، تنے یا کھجور کے درخت سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے تھے ( اور خطبہ ارشاد فرماتے تھے ) ۔ مبارک راوی کو شک ہے کہ کون سا لفظ بیان کیا تھا ۔ پھر جب لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے لئے منبر بناؤ “ تو صحابہ نے آپ کے لئے منبر بنا دیا - لہٰذا آپ منبر پر تشریف فرما ہوگئے تو لکڑی ، اپنے بچّے کی جدائی میں رونے والی ماں کی طرح رونے لگی - وہ اسی طرح روتی رہی حتّیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے ، پھر آپ نے جاکر اسے گلے سے لگایا تو وہ خاموش ہوگئی ۔ “ امام ابوبکر رحمه الله فرما تے کہ ” الواله “ سے مراد وہ عورت ہے جس کا بچّہ فوت ہو گیا ہو ( اور وہ اس کی جدائی میں روتی ہو )