صحيح ابن خزيمه
— غسل جمعہ کے ابواب کا مجموعہ
باب: جمعہ کے دن غسل کی فضیلت کا بیان جبکہ غسل کرنے والے جمعہ کے لئے بہت پہلے آئے ، امام کے قریب بیٹھے ، خاموش رہے اور فضول کام نہ کرے
حدیث نمبر: 1759
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ : زَعَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ , وَاغْسِلُوا رُءُوسَكُمْ وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا جُنُبًا , وَمَسُّوا مِنَ الطِّيبِ " . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَمَّا الطِّيبُ فَلا أَدْرِي , وَأَمَّا الْغُسْلُ , فَنَعَمْمحمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
جناب طاؤس الیمانی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا ، لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جمعہ کے دن نہایا کرو اور اپنے سر دھویا کرو ، اگرچہ تم جنبی نہ بھی ہو اور خو شبو لگایا کرو تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فر مایا کہ خوشبو کے بارے میں ، میں نہیں جانتا مگر غسل کے بارے میں ان کی بات ٹھیک ہے ۔