صحيح ابن خزيمه
— غسل جمعہ کے ابواب کا مجموعہ
باب: جمہ کے دن عسل کرنے کے حُکم کی ابتدء کی علت و سبب کا بیان
حدیث نمبر: 1754
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ , عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُونَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ مَنَازِلِهِمْ مِنَ الْعَوَالِي , فَيَأْتُونَ فِي الْعَبَاءِ , وَيُصِيبَهُمُ الْغُبَارُ وَالْعَرَقُ , فَيَخْرُجُ مِنْهُمُ الرِّيحُ , فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْسَانٌ مِنْهُمْ وَهُوَ عِنْدِي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَنَّكُمْ تَطَهَّرْتُمْ لِيَوْمِكُمْ هَذَا " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ لوگ عوالی مقام سے اپنے گھروں سے جمعہ کے لئے آتے تھے ۔ وہ چوغے پہن کر آتے تھے ۔ ( راستے میں ) اُن پر گرد وغبار پڑتا اور اُنہیں پسینہ آجاتا تو اُن کے جسموں سے بُو نکلنے لگتی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اُن میں سے ایک شخص آیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم اپنے اس دن ( جمعہ ) کے لئے غسل کر لیا کرو تو بہت بہتر ہو گا ۔ “