صحيح ابن خزيمه
— جمعتہ المبارک کی فضیلیت کے ابواب کا مجموعہ
باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ اس گھڑی میں دعا نماز میں نماز کے انتظار کی وجہ سے قبول ہوگی
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " . قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : وَقَالَ بِيَدِهِ عَلَى رَأْسِهِ , قُلْنَا : يُزَهِّدُهَا . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : فِي الْخَبَرِ دَلالَةٌ عَلَى إِبَاحَةِ الدُّعَاءِ فِي الْقِيَامِ فِي الصَّلاةِسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک جمعہ کے دن ایک گھڑی ہے ، جو مسلمان بھی نماز کی حالت میں کھڑے ہوئے اس گھڑی کو پا لیتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ سے خیر و برکت کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے وہی چیزعطا کر دیتا ہے ۔ “ جناب ابن عون کی روایت میں ہے کہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے سر کی طرف اشارہ کیا ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بہت تھوڑا بتا رہے تھے ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ نماز کی حالت میں کھڑے ہوکر دعا کرنا جائز ہے ۔