صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب الوضوء وسننه— وضو اور اس کی سنتوں کے ابواب کا مجموعہ
( 136) بَابُ التَّغْلِيظِ فِي غَسْلِ أَعْضَاءِ الْوُضُوءِ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثٍ، باب: اعضائے وضو کو تین سے زیادہ مرتبہ دھونے پر وعید کا بیان
حدیث نمبر: 174
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ فَاعِلَهُ مُسِيءٌ ظَالِمٌ أَوْ مُتَعَدٍّ ظَالِمٌ.محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اور اس کی دلیل کہ ایسا کرنے والا غلط کار ظالم یا حد سے گزرنے والا ظالم ہے۔
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْوُضُوءِ ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثًا ثَلاثًا ، فَقَالَ : " مَنْ زَادَ فَقَدْ أَسَاءَ وَظَلَمَ ، أَوِ اعْتَدَى وَظَلَمَ "محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے متعلق دریافت کیا۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار وضو کیا ، پھر فرمایا: ” جو ( اس مقدار سے ) زیادہ کرے تو اُس نے بُرا کیا اور ظلم کیا یا اُس نے زیادتی کی اور ظلم کیا- “