حدیث نمبر: 1700
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، كَانَ إِذَا رَأَى النِّسَاءَ ، قَالَ : " أَخِّرُوهُنَّ حَيْثُ جَعَلَهُنَّ اللَّهُ " ، وَقَالَ : " إِنَّهُنَّ مَعَ بَنِي إِسْرَائِيلَ يَصْفُفْنَ مَعَ الرِّجَالِ ، كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَلْبَسُ الْقَالِبَ فَتَطَالُ لِخَلِيلِهَا ، فَسُلِّطَتْ عَلَيْهِنَّ الْحَيْضَةُ ، وَحُرِّمَتْ عَلَيْهِنَّ الْمَسَاجِدُ " . وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا رَآهُنَّ ، قَالَ : أَخِّرُوهُنَّ حَيْثُ جَعَلَهُنَّ اللَّهُ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : الْخَبَرُ مَوْقُوفٌ غَيْرُ مُسْنَدٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

جناب عبدالرحمٰن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب عورتوں کو دیکھتے تو فرماتے کہ انہیں پیچھے رکھو جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کا مقام و مرتبہ رکھا ہے اور فرماتے ، یہ عورتیں بنی اسرائیل کے مردوں کے ساتھ ( نماز میں ) صفیں بناتی تھیں ۔ ایک عورت ( لمبی ہونے کے لئے ) سانچہ پہن لیتی تاکہ اپنے آشنا کے لئے اونچی ہوسکے ( اس جرم کی سزا میں ) ان پر حیض مسلط کر دیا گیا اور ان پر مساجد میں آنا حرام قرار دے دیا گیا ۔ اور حضرت عبداللہ جب انہیں دیکھتے تو فرماتے کہ انہیں اسی جگہ مؤخر رکھو جہاں انہیں اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے ۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ روایت موقوف ہے مسند نہیں ہے -

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة / حدیث: 1700
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده صحيح موقوف