صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب العذر الذى يجوز فيه ترك إتيان الجماعة— جس عذر کی بنا پر نماز باجماعت ترک کرنا جائز ہے ، ان ابواب کا مجموعہ
(150) بَابُ إِبَاحَةِ تَرْكِ الْجَمَاعَةِ فِي السَّفَرِ، باب: سفر کے دوران نماز باجماعت ترک کرنا جائز ہے ۔ گزشتہ باب میں مذکور حدیث جیسی حدیث کے ساتھ ، تھوڑی اور غیر تکلیف دہ بارش میں نماز گھروں اور ٹھکانوں پر پڑھنے کا حُکم
وَالْأَمْرِ بِالصَّلَاةِ فِي الرِّحَالِ فِي الْمَطَرِ الْقَلِيلِ غَيْرِ الْمُؤْذِي بِمِثْلِ اللَّفْظِ الَّذِي ذَكَرْتُ قَبْلُ.نا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، وَقَالَ مُؤَمَّلٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، قَالَ : خَرَجْتُ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ إِلَى الْمَسْجِدِ صَلاةَ الْعِشَاءِ ، فَلَمَّا رَجَعْتُ اسْتَفْتَحْتُ ، فَقَالَ أَبِي : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : أَبُو مَلِيحٍ ، قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَأَصَابَتْنَا سَمَاءٌ لَمْ تَبُلَّ أَسْفَلَ نِعَالِنَا ، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ " جناب ابوملیح بیان کرتے ہیں کہ میں ایک اندھیری رات میں عشاء کی نماز کے لئے گھر سے نکلا - پھر جب میں واپس آیا تو میں نے دروازہ کھلوانے کے لئے دستک دی تو میرے والد گرامی نے پوچھا کہ کون ہے ؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ میں ابو ملیح ہوں - ( اس پر اُن کے والد گرامی نے ) فرمایا کہ میں نے حدیبیہ والے دن اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس حال میں دیکھا کہ ہم پر بارش ہوئی جس سے ہمارے جوتوں کے تلوے بھی نہ بھیگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے اعلان کر دیا کہ تم نماز اپنے ٹھکانوں اور خیموں میں ادا کرلو ۔