حدیث نمبر: 1654
وَفِي خَبَرِ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ: إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي . وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ قَدْ تَقَعُ عَلَى مَنْ فِي بَصَرِهِ سَوْءٌ ، وَإِنْ كَانَ يُبْصِرُ بَصَرَ سَوْءٍ ، وَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ قَدْ صَارَ أَعْمَى لا يُبْصِرُ ، لَسْتُ أَشُكُّ إِلا أَنَّهُ قَدْ صَارَ بَعْدَ ذَلِكَ أَعْمَى لَمْ يَكُنْ يُبْصِرُ ، فَأَمَّا وَقْتَ سُؤَالِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنَّمَا سَأَلَ إِلَى أَنْ أَيْقَنْتُ فِي لَفْظِ هَذَا الْخَبَرِ . حَدَّثَنَا بِخَبَرِ مَعْمَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي ، وَإِنَّ السُّيُولَ تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي ، وَلَوَدِدْتُ أَنَّكَ جِئْتَ ، " وَصَلَّيْتَ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مَسْجِدًا " ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

جناب معمر کی امام زہری سے روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ بیشک میری نظر کمزور ہوگئی ہے ۔ یہ الفاظ اس شخص پر بولے جاتے ہیں جس کی بینائی میں نقص و کمزوری ہو اگرچہ اسے تھوڑا سا دکھائی بھی دیتا ہو - اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ مکمّل نابینا ہو چکے ہوں اور اُنہیں کچھ دکھائی نہ دیتا ہو- مجھے اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ بعد میں مکمّل بینائی سے محروم ہوگئے تھے ، وہ بالکل دیکھ نہیں سکتے تھے ۔ لیکن جب اُنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا تو اُس وقت اُن کی بینائی میں کچھ نقص تھا ( مکمّل نابینا نہ تھے ) حتّیٰ کہ مجھے اس روایت کے الفاظ سے یقین ہوگیا ( کہ واقعی وہ سوال کے وقت مکمّل نابینا نہ تھے ) ۔ جناب معمر کی روایت میں الفاظ ہیں ۔ سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی ، بلاشبہ میری نظر کمزور ہوگئی ہے اور سیلاب میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان حائل ہو جاتا ہے ۔ ( اس لئے ) میری خواہش ہے کہ آپ تشریف لائیں اور میرے گھر کسی جگہ نماز ادا کریں جسے میں اپنے لئے جائے نماز بنا لوں ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں ( تمہاری یہ خواہش پوری ) کروں گا ان شاء اللہ ۔ “ پھر مکمْل حدیث بیان کی ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب العذر الذى يجوز فيه ترك إتيان الجماعة / حدیث: 1654
تخریج حدیث صحيح بخاري