صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن— مقتدیوں کا امام کے پیچھے کھڑا ہونا اور اس میں وارد سنّتوں کے ابواب کا مجموعہ
(130) بَابُ إِبَاحَةِ ائْتِمَامِ الْمُصَلِّي فَرِيضَةً بِالْمُصَلِّي نَافِلَةً، باب: فرض نماز پڑھنے والا مقتدی ، نفل نماز پڑھانے والے امام کی اقتداء میں نماز ادا کرسکتا ہے
حدیث نمبر: 1633
ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ مِنَ الْعِرَاقِيِّينَ أَنَّهُ غَيْرُ جَائِزٍ أَنْ يَأْتَمَّ الْمُصَلِّي فَرِيضَةً بِالْمُصَلِّي نَافِلَةً.محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
اُن عراقی علماء کے قول کے برخلاف جو کہتے ہیں کہ فرض نماز پڑھنے والے کے لئے نفل نماز پڑھنے والے کی اقتدا کرنا جائز نہیں ہے
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، نا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ ، فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلاةَ " محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرتے تھے ، پھر واپس جاکر اپنی قوم کو امامت کراتے اور اُنہیں وہی نماز پڑھاتے ۔ “