حدیث نمبر: 1627
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، نا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدًا ، ثنا أَنَسٌ . ح وَحَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ أَيْضًا ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، نا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، نا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ حُجَرِهِ ، فَجَاءَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُصَلُّونَ بِصَلاتِهِ ، فَلَمَّا أَحَسَّ بِمَكَانِهِمْ تَجَوَّزَ فِي صَلاتِهِ ، ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ فَصَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّيْنَا بِصَلاتِكَ اللَّيْلَةَ وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ نَبْسُطَ ، قَالَ : " عَمْدًا فَعَلْتُ ذَلِكَ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی حجرے میں ( نفل ) نماز ادا فرمائی تو کچھ مسلمانوں کو ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا علم ہو گیا ) تو وہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے لگے ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی موجودگی کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مختصر کردی ، پھر آپ گھر تشریف لے گئے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی جتنی اللہ تعالیٰ کو منظور تھی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ( تو لوگ ابھی موجود تھے ) لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کئی بار کیا ۔ جب صبح ہوئی تو اُنہوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، گزشتہ رات ہم نے آپ کے ساتھ نماز ادا کی ہے ، اور ہم اسے وسیع پیمانے پر ادا کرنا چاہتے ہیں - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے یہ کام عمداََ کیا ہے ( تا کہ تم پر یہ نماز فرض نہ کر دی جائے ) ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن / حدیث: 1627
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده صحيح