صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن— مقتدیوں کا امام کے پیچھے کھڑا ہونا اور اس میں وارد سنّتوں کے ابواب کا مجموعہ
(119) بَابُ أَمْرِ الْمَأْمُومِ بِالْجُلُوسِ بَعْدَ افْتِتَاحِهِ الصَّلَاةَ قَائِمًا إِذَا صَلَّى الْإِمَامُ قَاعِدًا. باب: جب امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کو بھی بیٹھ کر نماز پڑھنے کے حُکم کا بیان جبکہ مقتدی نے نماز کی ابتداء کھڑے ہوکر کی ہو
نا بُنْدَارٌ ، نا يَحْيَى ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّاسَ دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَرِيضٌ ، فَصَلَّى بِهِمْ جَالِسًا ، فَصَلَّوْا قِيَامًا ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا ، وَقَالَ : " إِنَّمَا الإِمَامُ لِيُؤْتَمُّ بِهِ ، فَإِذَا صَلَّى جَالِسًا ، فَصَلُّوا جُلُوسًا ، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا ، فَصَلُّوا قِيَامًا ، وَإِذَا رَكَعَ ، فَارْكَعُوا ، وَإِذَا سَجَدَ ، فَاسْجُدُوا ، وَإِذَا رَفَعَ ، فَارْفَعُوا " اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور اُنہوں نے کھڑے ہوکر نماز شروع کر دی ۔ آپ نے انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ ۔ ( نماز سے فارغ ہوکر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلاشبہ امام اس لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ، لہٰذا جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ، اور جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ۔ جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو ۔ جب وہ اپنا سر اُٹھا لے تو تم بھی اپنے سر اُٹھا لو ۔ “