صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن— مقتدیوں کا امام کے پیچھے کھڑا ہونا اور اس میں وارد سنّتوں کے ابواب کا مجموعہ
(86) بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنَّ اسْمَ السَّاكِتِ قَدْ يَقَعُ عَلَى النَّاطِقِ سِرًّا باب: اس بات کا بیان کہ کبھی آہستہ بولنے والے پر بھی ساکت و خاموش کا اطلاق ہو جاتا ہے
إِذَا كَانَ سَاكِتًا عَنِ الْجَهْرِ بِالْقَوْلِ إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ دَاعِيًا خَفِيًّا فِي سَكْتِهِ عَنِ الْجَهْرِ بَيْنَ التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى، وَبَيْنَ الْقِرَاءَةِ.نا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلاةِ سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ، فَقُلْتُ لَهُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، أَرَأَيْتَ سُكَاتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ، أَخْبِرْنِي مَا هُوَ ؟ قَالَ : " أَقُولُ : اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطِيئَتِي كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ أَنْقِنِي مِنْ خَطَايَايَ كَالثَّوْبِ الأَبْيَضِ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ " سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں تکبیر ( اولیٰ ) کہہ لیتے تو تکبیر اور قراءت کے درمیان خاموش ہو جاتے ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، مجھے بتائیں کہ تکبیر اور قراءت کے درمیان آپ کا خا موشی اختیار کر نا کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں یہ دعا پڑھتا ہوں « اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنْ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ » ” اے میرے اللہ ، میرے گناہوں اور میرے درمیان ایسی ہی دوری کردے جیسی تُو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے ۔ اے میرے اللہ ، مجھے میرے گناہوں سے اسی طرح پاک صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے پاک ہو جاتا ہے ۔ اے میرے اللہ ، مجھے میری خطاؤں سے برف ، پانی اور اولوں کے ساتھ دھو دے ۔ “