حدیث نمبر: 157
قَالَ أَبُو بَكْرٍ‏:‏ خَبَرُ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ‏:‏ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا الْمَاءُ، ثُمَّ رَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا أَوْ جَمِيعًا‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی عبد خیر کی روایت میں ہے۔ پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا حتیٰ کہ وہ پانی میں ڈوب گیا، پھر اُسے اس پر لگے ہوئے پانی سمیت اوپر اُٹھایا، پھر اُسے اپنے بائیں ہاتھ پر ملا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا۔

نا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : سَأَلْتُ مَالِكًا عَنِ الرَّجُلِ مَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِهِ فِي الْوُضُوءِ ، أَيُجْزِيهِ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْمَازِنِيِّ ، قَالَ : " مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي وَضُوئِهِ مِنْ نَاصِيَتِهِ إِلَى قَفَاهُ ، ثُمَّ رَدَّ يَدَيْهِ إِلَى نَاصِيَتِهِ وَمَسَحَ رَأْسَهُ كُلَّهُ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

جناب اسحاق بن عیسی بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام مالک رحمہ اللہ سے اُس شخص کے متعلق پوچھا جس نے وضو میں صرف پیشانی کا مسح کیا ، کیا اسے یہ کافی ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھےعمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے اپنے والد سے اور اُنہوں نے سیدنا عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وضو میں اپنی پیشانی سے گُدی تک اپنے سر کا مسح کیا ، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنی پیشانی پر لوٹا یا اور پورے سر کا مسح کیا ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب الوضوء وسننه / حدیث: 157