حدیث نمبر: 1551
نا بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَيَحْيَى ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَلْحَةَ الأَيَامِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يُحَدِّثُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا إِذَا قُمْنَا إِلَى الصَّلاةِ فَيَمْسَحُ عَوَاتِقَنَا وَصُدُورَنَا ، وَيَقُولُ : " لا تَخْتَلِفْ صُدُورُكُمْ فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ ، إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الأَوَّلِ " وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " زَيِّنُوا الْقُرْآنَ " . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْسَجَةَ : كُنْتُ نَسِيتُ : " زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ " ، حَتَّى ذَكَّرَنِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لاتے اور ہمارے کندھوں اور سینوں کو اپنے دست مبارک سے برابر کرتے اور فرماتے : ” تمہارے سینے مختلف ( آگے پیچھے ) نہیں ہونے چا ہئیں وگرنہ تمہارے دل بھی مختلف ہو جائیں گے ۔ بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور اُس کے فرشتے اُن کے لئے رحمت و بخشش کی دعا کرتے ہیں ۔ “ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قرآن مجید کو ( اپنی آوازوں کے ساتھ ) زینت دو -“ جناب عبدالرحمان بن عوسجہ کہتے ہیں کہ میں یہ الفاظ بھول گیا تھا ۔ ” قرآن مجید کو اپنی آوازوں کے سا تھ زینت دو “ حتّیٰ کہ ضحاک بن مزاحم نے مجھے یہ الفاظ یاد دلائے ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن / حدیث: 1551
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده صحيح