صحيح ابن خزيمه
كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند— کتاب المسند سے اختصار کے ساتھ نماز میں امامت اور اُس میں موجود سنّتوں کی کتاب
(41) بَابُ النَّهْيِ عَنْ إِمَامَةِ الزَّائِرِ باب: ملاقات کے لئے آنے والے شخص کی امامت ممنوع ہے
أنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَطِيَّةَ رَجُلٌ مِنَّا ، وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارِ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُكْنَى أَبَا عَطِيَّةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ ، قَالَ : أَتَانَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ ، فَقِيلَ لَهُ : تَقَدَّمْ ، قَالَ : لِيَؤُمَّكُمْ رَجُلٌ مِنْكُمْ ، فَلَمَّا صَلَّوْا ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا زَارَ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَلا يَؤُمَّهُمْ ، وَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ " . وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ ، قَالَ : " لِيَتَقَدَّمْ بَعْضُكُمْ ، حَتَّى أُحَدِّثَكُمْ لِمَ لا أَتَقَدَّمُ "ابوعطیہ کہتے ہیں کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے تو نماز کا وقت ہو گیا ۔ اُن سے عرض کی گئی کہ آگے بڑھیں (اور جماعت کرا دیں ) ۔ اُنہوں نے فرمایا کہ تم ہی میں سے کسی شخص کو جماعت کرانی چاہیے ۔ جب اُنہوں نے نماز ادا کر لی تو فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ”جب کوئی شخص کسی قوم کی ملاقات کے لئے جائے تو وہ اُنہیں امامت نہ کرائے ، اُن ہی میں سے کسی شخص کو اُن کی امامت کرانی چاہئے ۔ “ جناب وکیع کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص آگے بڑھے (اور جماعت کرائے ) میں تمہیں بتاؤں گا کہ میں آگے کیوں نہیں بڑھا۔