حدیث نمبر: 1513
 قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ»
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس مسئلے کی دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہے کہ لوگوں کی امامت ان میں سے وہ شخص کرائے جسے قرآن زیادہ یاد ہو (خواہ وہ بیٹا ہو یا آزاد کردہ غلام ۔ )“

وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ صَلَاةَ الْإِمَامِ قَدْ تَكُونُ نَاقِصَةً، وَصَلَاةَ الْمَأْمُومِ تَامَّةٌ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ صَلَاةَ الْمَأْمُومِ مُتَّصِلَةٌ بِصَلَاةِ الْإِمَامِ، إِذَا فَسَدَتْ صَلَاةُ الْإِمَامِ، فَسَدَتْ صَلَاةِ الْمَأْمُومِ، زَعَمَ
أنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الأَسْلَمِيِّ . ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحُ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، نا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ . ح وَحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ ، وَأَتَمَّ الصَّلاةَ فَلَهُ وَلَهُمْ ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكِ شَيْئًا ، فَعَلَيْهِ وَلا عَلَيْهِمْ " . هَذَا حَدِيثُ ابْنِ وَهْبٍ ، وَمَعْنَى أَحَادِيثِهِمْ سَوَاءٌ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے لوگوں کو صحیح (اول ) وقت پر امامت کرائی اور مکمل نماز پڑھائی ، تو اسے اور مقتدیوں کو بھی اجر و ثواب ملے گا اور جس شخص نے اس میں کوئی کمی و کوتاہی کی تو اس کا گناہ امام ہی کو ہو گا ، مقتدیوں کو نہیں ۔ “ یہ ابن وہب کی روایت ہے ۔ تمام راویوں کی حدیث کے معنی ایک ہی ہیں ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند / حدیث: 1513
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده حسن