صحيح ابن خزيمه
كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند— کتاب المسند سے اختصار کے ساتھ نماز میں امامت اور اُس میں موجود سنّتوں کی کتاب
(36) بَابُ التَّغْلِيظِ عَلَى الْأَئِمَّةِ فِي تَرْكِهِمْ إِتْمَامَ الصَّلَاةِ، وَتَأْخِيرِهِمُ الصَّلَاةَ باب: اُن ائمہ کے بارے میں سخت وعید کا بیان جو نماز مکمّل نہیں پڑھاتے اور نمازوں کو تاخیر سے ( آخری وقت پر ) پڑھاتے ہیں
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ»امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس مسئلے کی دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہے کہ لوگوں کی امامت ان میں سے وہ شخص کرائے جسے قرآن زیادہ یاد ہو (خواہ وہ بیٹا ہو یا آزاد کردہ غلام ۔ )“
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ صَلَاةَ الْإِمَامِ قَدْ تَكُونُ نَاقِصَةً، وَصَلَاةَ الْمَأْمُومِ تَامَّةٌ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ صَلَاةَ الْمَأْمُومِ مُتَّصِلَةٌ بِصَلَاةِ الْإِمَامِ، إِذَا فَسَدَتْ صَلَاةُ الْإِمَامِ، فَسَدَتْ صَلَاةِ الْمَأْمُومِ، زَعَمَأنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الأَسْلَمِيِّ . ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحُ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، نا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ . ح وَحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ ، وَأَتَمَّ الصَّلاةَ فَلَهُ وَلَهُمْ ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكِ شَيْئًا ، فَعَلَيْهِ وَلا عَلَيْهِمْ " . هَذَا حَدِيثُ ابْنِ وَهْبٍ ، وَمَعْنَى أَحَادِيثِهِمْ سَوَاءٌسیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے لوگوں کو صحیح (اول ) وقت پر امامت کرائی اور مکمل نماز پڑھائی ، تو اسے اور مقتدیوں کو بھی اجر و ثواب ملے گا اور جس شخص نے اس میں کوئی کمی و کوتاہی کی تو اس کا گناہ امام ہی کو ہو گا ، مقتدیوں کو نہیں ۔ “ یہ ابن وہب کی روایت ہے ۔ تمام راویوں کی حدیث کے معنی ایک ہی ہیں ۔