حدیث نمبر: 1501
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، وَمُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلاةِ أَبْعَدُهُمْ إِلَيْهَا مَمْشًى ، فَأَبْعَدُهُمْ ، وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلاةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الإِمَامِ فِي جَمَاعَةٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي يُصَلِّيهَا ، ثُمَّ يَنَامُ " ، جَمِيعُهَا لَفْظٌ وَاحِدٌ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یقیناً نماز میں سب سے عظیم اجر و ثواب کا حق دار وہ شخص ہے جو ان سب سے زیادہ دُور سے چل کرآتا ہے ، پھر وہ جو اس سے بھی دُور سے آتا ہے ۔ اور جو شخص نماز کا انتظار کرتا ہے حتّیٰ کہ اُسے امام کے ساتھ با جماعت ادا کرتا ہے ، اس شخص سے بڑے اجر و ثواب کا مالک ہے جو نماز ( اکیلا ) پڑھ کر سوجاتا ہے ۔ “ دونوں راویوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں ۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند / حدیث: 1501
تخریج حدیث صحيح بخاري