حدیث نمبر: 1480
ناهُ نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا أَسَدٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، ناهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ ، نَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي شَيْخٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ شَاسِعُ الدَّارِ ، وَلِي قَائِدٌ فَلا يُلازِمُنِي فَهَلْ لِي مِنْ رُخْصَةٍ ؟ قَالَ : " تَسْمَعُ النِّدَاءَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " مَا أَجِدُ لَكَ مِنْ رُخْصَةٍ "
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

جناب ابو رزین سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا ، میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ، بیشک میں ایک نابینا بوڑھا شخص ہوں ، میرا گھر بھی دُور ہے ۔ اور میرا ایک رہنما ہے جو مستقل میرے پاس نہیں ہوتا ، تو کیا میرے لئے ( نماز باجماعت میں حاضر نہ ہونے کی ) رخصت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو ؟ “ اُنہوں نے جواب دیا ک جی ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تیرے لئے کوئی رخصت نہیں پاتا ۔ “

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند / حدیث: 1480
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: اسناده صحيح