صحيح ابن خزيمه
كتاب الإمامة فى الصلاة وما فيها من السنن مختصر من كتاب المسند— کتاب المسند سے اختصار کے ساتھ نماز میں امامت اور اُس میں موجود سنّتوں کی کتاب
(7) بَابُ أَمْرِ الْعُمْيَانِ بِشُهُودِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ باب: نابینا افراد کو نماز باجماعت میں حاضر ہونے کے حُکم کا بیان ،
وَإِنْ خَافَ الْأَعْمَى هَوَامَّ اللَّيْلِ وَالسِّبَاعِ إِذَا شَهِدَ الْجَمَاعَةَاگرچہ نابینا شخص نماز میں حاضر ہونے کے لئے رات کے کیڑوں مکوڑوں اور درندوں سے خوف کھاتا ہو
نَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، نَا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ ، قَالَ : " تَسْمَعُ حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " فَحَيَّ هَلا " سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ، بلاشبہ مدینہ منوّرہ میں زہریلے کیڑے مکوڑے اور درندے بکثرت ہیں ( تو کیا مجھے جماعت چھوڑنے کی رخصت ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم « حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ » اور « حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ » ( آؤ نماز کی طرف ، دوڑو کامیابی کی طرف ) کی آواز سنتے ہو ؟ “ میں نے جواب دیا کہ جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر( نماز باجماعت میں ) حاضرہوا کرو ۔ “