صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن— عیدالفطر ، عیدالاضحٰی اور جو اُن میں جو ضروری سنّتوں کے ابواب کا مجموعہ
(716) بَابُ الْأَمْرِ بِاعْتِزَالِ الْحَائِضِ إِذَا شَهِدَتِ الْعِيدَ، باب: حائضہ عورت جب عید میں حاضر ہو تو عید گاہ سے الگ رہنے کا حُکم کا بیان
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّهَا إِنَّمَا أُمِرَتْ بِالْخُرُوجِ لِمُشَاهَدَةِ الْخَيْرِ وَدَعْوَةِ الْمُسْلِمِينَاور اس بات کی دلیل کا بیان کہ اُسے صرف خیر و بھلائی کے مشاہدے اور مسلمانوں کی دعا میں شرکت کے لئے نکلنے کا حُکم دیا گیا ہے
نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، وَهِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، وَحَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُخْرِجُ الأَبْكَارَ ، الْعَوَاتِقَ ، ذَوَاتَ الْخُدُورِ ، وَالْحُيَّضَ يَوْمَ الْعِيدِ ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الْمُصَلَّى ، وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَتْ إِحْدَاهُنَّ : فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لإِحْدَانَا جِلْبَابٌ ؟ قَالَ : " فَلْتُعِرْهَا أُخْتُهَا مِنْ جَلابِيبِهَا " سیدہ اُم عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنواری نوجوان پردہ نشین لڑکیوں اور حائضہ عورتوں کو عید والے دن ( عید گاہ کی طرف ) نکالا کرتے تھے ۔ البتہ حائضہ عورتیں عید گاہ سے الگ رہتی تھیں اور خیر و بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوتی تھیں ۔ اُن میں سے کسی عورت نے پوچھا ، اگر ہم میں سے کسی ایک کے پاس چادر نہ ہو تو ( وہ کیا کرے ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اُس کی بہن اپنی چادروں میں سے ایک چادراُسے عاریتاً دے دے ۔ “