صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب صلاة العيدين، الفطر والأضحى، وما يحتاج فيهما من السنن— عیدالفطر ، عیدالاضحٰی اور جو اُن میں جو ضروری سنّتوں کے ابواب کا مجموعہ
(707) بَابُ إِبَاحَةِ قَطْعِ الْخُطْبَةِ لِيُعَلِّمَ بَعْضَ الرَّعِيَّةَ باب: خطبہ روک کر بعض رعایا کو تعلیم دینا جائز ہے
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ أَبِي رِفَاعَةَ ، قَالَ : " جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ ، فَقُلْتُ : رَجُلٌ جَاهِلٌ عَنْ دِينٍ ، لا يَدْرِي مَا دِينُهُ ، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ وَتَرَكَ الْخُطْبَةَ ، ثُمَّ أُتِيَ بِكُرْسِيٍّ خَلَتْ قَوَائِمُهُ مِنْ حَدِيدٍ ، فَقَعَدَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ ، ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ قَائِمًا " سیدنا ابورفاعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رھے تھے ۔ تو میں نے عرض کی کہ ( میں ) ایک دین سے نا واقف شخص ہوں ، جسے معلوم نہیں کہ اُس کا دین کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ روک دیا ۔ پھر ایک کرسی لائی گئی ۔ جس کے پائے لوہے سے خالی تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس پر تشریف فرما ہوئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس علم سے مجھے سکھانا شروع کیا جو علم اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ( بقیہ ) خطبہ ارشاد فرمایا ۔