صحيح ابن خزيمه
كتاب: الوضوء— وضو کے متعلق ابواب
بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّهَ- عَزَّ وَجَلَّ- إِنَّمَا أَوْجَبَ الْوُضُوءَ عَلَى بَعْضِ الْقَائِمِينَ إِلَى الصَّلَاةِ لَا عَلَى كُلِّ قَائِمٍ إِلَى الصَّلَاةِ باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کے لیے کھڑے ہونے والے کچھ لوگوں پر وضو فرض کیا ہے (یعنی جن کا وضو ٹوٹ چکا ہو) نہ کہ ہر نماز پڑھنے والے پر
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاةٍ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ ، صَلَّى الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوَضُوءٍ وَاحِدٍ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَمْ يُسْنِدْ هَذَا الْخَبَرَ عَنِ الثَّوْرِيِّ أَحَدٌ نَعْلَمُهُ غَيْرُ الْمُعْتَمِرِ ، وَوَكِيعٍ . رَوَاهُ أَصْحَابُ الثَّوْرِيِّ ، وَغَيْرُهُمَا ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنْ كَانَ الْمُعْتَمِرُ وَوَكِيعٌ مَعَ جَلالَتِهِمَا حَفِظَا هَذَا الإِسْنَادَ وَاتِّصَالَهُ ، فَهُوَ خَبَرٌ غَرِيبٌحضرت سلیمان اپنے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے ۔ پھر فتح مکہ والے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں ۔ امام ابوبکر رحمہ الله فرماتے ہیں کہ معمر اور وکیع کے سوا کسی نے یہ روایت امام سفیان ثوری سے مسند بیان نہیں کی ۔ امام سفیان ثوری کے شاگرد معمر اور وکیع کے علاوہ دوسرے راویوں نے یہ روایت امام سفیان سے ، انہوں نے محارب سے انہوں نے سلیمان بن بریدہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے ۔ جلیل القدر معتمر اور وکیع نے اگرچہ سند اور اس کے اتصال کو حفظ کیا ہے مگر یہ روایت نہایت غریب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موزوں پر مسح جائز ہے۔ ایک وضو سے متعدد فرض و نفل نمازیں جائز ہیں تا وقتیکہ آدمی بے وضو نہ ہو۔ اس کا جواز اکثر علماء سے منقول ہے، جب کہ ابو جعفر طبری اور ابوالحسن بن باطل نے علماء کے گروہ سے نقل کیا ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو واجب قرار دیتے ہیں، خواہ نمازی باوضو ہی ہو اور ان کی دلیل یہ آیت «إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلوة فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ» [المائدة: 6] ہے۔ میں (نوویؒ) خیال کرتا ہوں کہ یہ مذہب کسی بھی اہل علم سے صحیح ثابت معلوم نہیں ہوتا اور ہو سکتا اس سے مراد یہ ہو کہ ہر نماز کے وقت تجدید وضو مستحب عمل ہے۔ جمہور علماء (کے موقف کہ ایک وضو سے متعدد نمازیں پڑھنا جائز ہیں) پر کئی احادیث صحیحہ ہیں، جن میں ایک حدیث الباب ہے، دوم، صحیح بخاری میں انس رضی اللہ عنہ کی مروی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر ادا کی، پھر ستو نتناول فرمائے بعد ازاں نیا وضو کیے بغیر نماز مغرب ادا کی۔ اس طرح اس معنی و مفہوم کی بے شمار روایات ہیں۔ عرفہ، مزدلفہ اور تمام سفروں میں ایک وضو سے دو دو نمازیں جمع کرنا اور غزوہ خندق کے دن چھوٹی ہوئی نمازیں (ظہر، عصر، مغرب اور عشاء) ایک وضو سے ادا کرنا (یہ تمام احادیث ایک وضو سے متعدد نمازوں کے جواز کی دلیل ہیں۔) اور آیت کریمہ سے مراد یہ ہے کہ جب تم بے وضو ہو اور نماز قائم کرنا چاہو تو وضو کیا کرو۔ [نووي: 176/3]
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور جب فتح مکہ کا سال ہوا تو آپ نے کئی نمازیں ایک وضو سے ادا کیں اور اپنے موزوں پر مسح کیا، عمر رضی الله عنہ نے عرض کیا کہ آپ نے ایک ایسی چیز کی ہے جسے کبھی نہیں کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ” میں نے اسے جان بوجھ کر کیا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 61]
1؎:
یعنی عبدالرحمن بن مہدی وغیرہ کی یہ مرسل روایت جس میں سلیمان بن بریدہ کے والد کے واسطے کا ذکر نہیں ہے وکیع کی مسند روایت سے جس میں سلیمان بن بریدہ کے والد کے واسطے کا ذکر ہے زیادہ صحیح ہے کیونکہ اس کے رواۃ زیادہ ہیں، لیکن عبدالرحمن بن مہدی کی علقمہ کے طریق سے روایت مرفوع متصل ہے (جو مؤلف کی پہلی سند ہے) اور اس کے متصل ہونے میں سفیان کے کسی شاگرد کا اختلاف نہیں ہے جیسا کہ محارب والے طریق میں ہے، ’’فافهم‘‘۔
«. . . صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک ہی وضو سے پانچ نمازیں ادا کیں . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 172]
تاکہ کوئی یہ نہ سمجھےکہ ایک وضو سے متعدد نمازیں نہیں پڑھی جا سکتیں۔
فائدہ: اس حدیث سے ثابت ہوا، جب تک انسان بے وضو نہ ہو تو وہ متعدد فرائض ونوافل ایک وضوسے ہی ادا کرسکتا ہے۔
یہ حدیث آیت مبارکہ: ﴿إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ﴾ کے منافی نہیں ہے، کیونکہ آیت مبارکہ کا معنی یہ ہے۔
’’اگرتمہارا وضو نہ ہو اور تم نماز کے لیے اٹھو تووضو کرلو‘‘ تاہم دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے، وضو کی موجودگی میں وضو کرلینا، نور علی نور ہے، کیونکہ آپ ﷺ عام طور پر ہرنماز کے لیے وضو کرتے تھے، اورآیت کا ظاہری تقاضا یہی ہے۔
(شرح النووي: ج/135)
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، تو جب فتح مکہ کا دن آیا تو آپ نے کئی نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: آپ نے ایسا کام کیا ہے جو آپ نہیں کرتے تھے ۱؎؟ فرمایا: ” عمر! میں نے اسے عمداً (جان بوجھ کر) کیا ہے “ ۲؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 133]
بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے، لیکن فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وضو سے ساری نماز پڑھیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 510]
* نبی اکرم ﷺ کی عادت مبارکہ یہی تھی کہ آپ ہر نماز کے لیے نیا وضو کرتے تھے لیکن فتح مکہ کے دن آپ نے تمام نمازیں ایک ہی وضو سے ادا فرمائیں۔
اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں:۔
1 ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنا صرف آپ ہی کے لیے واجب ہواور امت کے لیے واجب نہ ہو۔
پھر یہ وجوب فتح مکہ کے دن ختم کردیا گیا اور ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنا افضل ہونا باقی رہ گیا 2 اپ کا یہ فعل مستحب تھا مگر آپ نے اس ڈر سے ترک کردیا کہ کہیں امت پر فرض قرار نہ دے دیا جائے جیسا کہ آپ نے نماز تراویح کو باجماعت ادا کرنا چھوڑدیا تھا۔ دیکھیے: (فتح الباري: 1؍412)