حدیث نمبر: 139
إِذْ لَوْ كَانَ السِّوَاكُ فَرْضًا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ أَوْ لَمْ يَشُقَّ‏.‏ وَقَدْ أَعْلَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ آمِرًا بِهِ أُمَّتَهُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، لَوْلَا أَنَّ ذَلِكَ يَشُقُّ عَلَيْهِمْ‏.‏ فَدَلَّ هَذَا الْقَوْلُ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَمْرَهُ بِالسِّوَاكِ أَمْرُ فَضِيلَةٍ، وَأَنَّهُ إِنَّمَا أَمَرَ بِهِ مَنْ يَخِفُّ ذَلِكَ عَلَيْهِ دُونَ مَنْ يَشُقُّ ذَلِكَ عَلَيْهِ‏.‏
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

اگر مسواک کرنے کا حُکم فرض ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُمّت کو اس کا حُکم دے دیتے خواہ اُن پر ہی مشکل ہوتا یا نہ ہوتا ۔ جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ” وہ اُمت کے لیے مشقّت کا باعث نہ سمجھتے تو انہیں ہر نماز کے لیے اس کا حُکم دیتے۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مسواک کرنے کا حُکم افضلیت کے لیے ہے ۔ اور حُکم اس کے لیے ہے جو اسے آسانی سمجھے مشکل سمجھنے والے کے لیے نہیں۔

نا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ ، وَالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ " . لَمْ يُؤَكِّدِ الْمَخْزُومِيُّ تَأْخِيرَ الْعِشَاءِ
محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی اُمّت کومشقّت میں ڈال دوں گا تومیں اُنہیں عشاء کی نماز تاخیر سےادا کرنےاور ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ مخزومی نے عشاء کی تا خیر کی تاکید بیان نہیں کی۔

حوالہ حدیث صحيح ابن خزيمه / جماع أبواب سنن السواك وفضائله / حدیث: 139
تخریج حدیث صحيح بخاري