صحيح ابن خزيمه
جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها— مساجد کے فضائل ، ان کی تعمیر اور ان کی تعظیم و تکریم کے متعلق ابواب کا مجموعہ
(588) بَابُ تَقْمِيمِ الْمَسَاجِدِ وَالْتِقَاطِ الْعِيدَانِ وَالْخُرَقِ مِنْهَا وَتَنْظِيفِهَا باب: مساجد میں جھاڑو دینے ، تنکے اور چیتھڑے اُٹھانے اور صفائی ستھرائی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1299
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ ، فَمَاتَتْ ، فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ عَنْهَا بَعْدَ أَيَّامٍ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّهَا مَاتَتْ ، قَالَ : " فَهَلا آذَنْتُمُونِي " ، فَأَتَى قَبْرَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا محمد اجمل بھٹی حفظہ اللہ
سیدنا ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ رنگ کی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی ، وہ فوت ہو گئی ( اور صحابہ کرام نے اُسے دفن کر دیا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے گم پایا تو کچھ دنوں کے بعد اُس کے بارے میں پوچھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ فوت ہو گئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ کی ؟ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی قبر پر تشریف لائے اور اُس کی نماز جنازہ پڑھی ۔ “